فیض آباد دھرنا جاری: ’آرمی چیف نے قوم کو بڑے سانحے سے بچا لیا‘

محسن گورایہ

27 نومبر 2017

 تحریک لبیک یا رسول اللہ کے دھرنے کو ختم کرنے کے لئے حکومت نے جس طرح بر بریت اور فسطا ئیت کا مظاہرہ کیا اس نے حکومت کے جلد انجام اور مسلم لیگ (ن) کے مکمل انجام کا راستہ آسان بنا دیا ہے اور جو لوگ کہتے تھے کہ ن لیگ والوں نے سبق سیکھ لیا ہے انہیں بھی اندازہ ہوچکا ہے کہ اس عمر میں آکر کچھ نہیں سیکھا جاسکتا۔نا سمجھ لوگ اپنے پاؤں پر کلہاڑی مارتے ہیں اور انہوں نے اپنا پاؤں ہی کلہاڑی پر دے مارا ہے ۔یہ با ت بھی نہیں کہ ن لیگ کو اس طرح کے مسائل کا پہلے سامنا کرنا نہیں پڑا ، اس سے پہلے مشاہداللہ نے فوج کے خلاف بیان دیا تو اسے ہٹادیا گیا سانحہ ماڈل ٹاون میں رانا ثنا اللہ کو ہٹا کر دوبارہ بحال کردیا گیا حتی کہ ڈان لیکس جیسے ایشو پر فوج کے ساتھ محاذآرائی سے بچنے کے لیے پرویز رشید کو قربانی کا بکرا بنایا گیا تو اب کیا وجہ تھی کہ ناموس رسالت کے نام پر ایک وزیر کی قربانی نہ دی جا سکی ۔کیا اس کے پیچھے وفاقی وزیر زاہد حامد کے علاوہ کوئی اور ہاتھ یا سازش تو نہیں ؟ مولانا خادم حسین رضوی کا طریقہ احتجاج اپنی جگہ پر مگر ان کا مطالبہ کیا ہے ؟ ہم سب مسلمان اور عاشقان رسول ہیں ، اگر دیکھا جائے تو تحریک لبیک یارسولﷺ کے مطالبات وہی ہیں جو تمام پاکستانیوں اور مسلمانوں کے ہیں ۔ خود میاں نواز شریف اور شہباز شریف کے بھی یہی بیانات ہیں پھر پتہ نہیں اس قدر لاپروائی کے ساتھ کیوں اس معاملے کو مس ہینڈل کرکے جڑواں شہروں کے عوام کے مسئلہ کو پورے ملک میں پھیلا دیا گیا ۔ن لیگ کے منصوبہ ساز ویسے تو بہت دور کی کوڑی لائے تھے عدلیہ کے فیصلوں کی توہین کرنے اور "مجھے کیوں نکالا"مارچ کر کے عدلیہ کو بدنام کرنے کی سازشیں کرتے کرتے انہیں کیا خوب سوجھی کہ اس معاملے میں عدلیہ کے فیصلے کا سہارا لیا جائے اور عدلیہ کے حکم پر عمل کیا جائے۔پورے ملک میں جاری اس بے چینی پر ن لیگ کے ان منصوبہ سازوں پرکچھ سوالات تو اٹھتے ہیں کہ اس دھرنے کو اسلام آباد تک کیوں پہنچنے دیا گیا؟ بیس دن میں اس کا سیاسی یا علما کے ذریعے کوئی مفاہمتی حل کیوں نہیں نکالاگیا؟آپریشن کے وقت وزیرداخلہ اور وزیراعظم جاتی عمرہ میں بیٹھے کیا کرتے رہے؟ میڈیا رپورٹس کے مطابق جب آپریشن کے حالات خراب تر ہوتے گئے تو میاں صاحب نے وزیرداخلہ کو اسلام آباد جانے سے کیوں روکا؟سب سے اہم سوال یہ ہے کہ ریاست کی طاقت کو استعمال کرنے کی بجائے اس کا مذاق اڑایا گیا؟ اور آخر میں اتنی عجلت میں فوج کو بیچ میں لانے کے لیے الٹا سیدھا نوٹیفیکیشن کیوں نکالا گیا؟ اس کے علاوہ بھی بہت سے سوالات کھڑے ہوتے ہیں لیکن اس وقت سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا حکومت چاہتی ہے کہ دھرنے والوں کو فوج کے ساتھ ٹکرا دیا جائے ؟ اس سے زیادہ گھٹیا حکمت عملی کیا ہو سکتی ہے مگر پاک فوج نے بہت ہی دانشمندانہ اقدام اٹھایا ہے جس کے تحت سب سے پہلے تو آرمی چیف نے دونوں طرف عدم تشدد کے مظاہرے پر زور دیا جبکہ فوج نے نوٹیفیکیشن پر عمل کروانے کی یقین دہانی کے ساتھ اس کی تین شقوں کی وضاحت مانگ لی یعنی عدلیہ نے گولی کے استعمال کی ممانعت کی،پولیس نے اپنابھرپور کردار کیوں ادا نہیں کیا اور رینجر ز کو باقاعدہ لکھے ہوئے احکامات کیوں نہیں دیے گئے۔ہم یہ نہیں کہتے کہ کوئی بہت بڑی سازش گھڑی جا رہی ہے لیکن اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ ن لیگ والے ہمیشہ ،، بھول پن ،،اور،، معصومیت ،، میں ایسے ایسے کارنامے سرانجام دے جاتے ہیں کہ اس سے کئی سازشیں جنم لے لیتی ہیں۔ بات شاید یہاں تک رکتی تو کیا بات تھی لیکن حکومت کی نااہلی اور غیر سنجیدگی کا عالم یہ ہے کہ جب آگ لگ چکی تو اس کو مزید ہوا دینے اور عوام میں ہیجان پیدا کرنے کے لیے تمام چینلز ، فیس بک اور انٹرنیٹ کے ذریعے خبروں کے دیگر ذرائع پر پابندی لگا دی گئی جس کی وجہ سے مزید معاملات خراب ہوئے اور عوام مختلف قسم کی افواہوں کی وجہ سے پریشان ہوتے رہے۔ ابھی تو اس دھرنے کو پھیلے دو دن ہوئے ہیں ، اگر اسی طرح یہ دھرنا ملک بھر میں جاری رہا تو چند روز میں ہی ملک میں اشیا ضروریہ کا بحران علیحدہ سے پیدا ہوجائے گا۔یہاں دھرنے والوں کو بھی چاہیے کہ وہ کچھ لچک دکھائیں کیونکہ جہاں ناموس رسالت ﷺ پر ہمارے عوام کٹ مرنے کو تیار ہیں تو وہیں اس طرح کا سخت اور عوام کے لیے تکلیف دہ رویہ کسی طرح بھی اسلامی شعائر کے مطابق نہیں ہے۔ اگر حکومت اب اس معاملے کو حل کرنے میں سنجیدہ ہے تو سب سے پہلے اسے ماضی کی طرح مطالبات میں لچک پیدا کرنے کے لئے ایک دو وزرا کو چھٹی پر بھیج دینا چاہیے یا ان کا استعفی لینا چاہیے اور راجہ ظفر الحق والی کمیٹی کی رپورٹ کو منظر عام پر لانا چاہیے دوسری طرف ملک کے تمام مسالک کے جید علما پر مشتمل ایک کمیٹی بنا کر اسے مذاکرات کی ذمہ داری سونپ دینی چاہیے اور سیاسی طور پر معاملات کو اچھے طریقے سے ہینڈل کرنے کے لیے آل پارٹیز کانفرنس کا انعقاد کرنا چاہیے ۔ سیاسی شہادت کا راستہ ڈھونڈنے کی بجائے سیاسی بصیرت سے معاملات کو حل کریں اور عباسی صاحب ایک نا اہل وزیراعظم کی طرف دیکھنے کی بجائے اپنی ذمہ داریاں نبھائیں کیونکہ تاریخ ان سے ان کی وزارت عظمی کا حساب مانگے گی نہ کہ انہیں وزیراعظم بنانے والوں سے اور رہا عوام کا معاملہ تو ہم سب غلامی رسول میں موت بھی قبول ہے کا نعرہ لگانے والے ہیں ،ہمارا اور امتحان نہ لیں۔

Copyright © 2017 SURKH FEETA All Rights Reserved. Powered by Cyan Business Solutions